جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہوگا، افغانستان کی نئی حمکوت سنبھالنے کے لیئے افغان صدر اشرف غنی نے پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، اور دوطرفہ سکیورٹی مشاہدے کی منطوری اور اس پر دستخط کی ترتیبات منگل کو شروع ہوگئی ہے۔ مندرجہ ذیل امریکی مرکزی کمان، سینٹکام کے کمانڈر جنرل لویڈ آسٹن کا اس موقع پر پیغام پوست کیا گیا ہے:

“میں افغانستان کے لوگوں کوایک تاریخی اور پُر امن طریقے سے حکومت کی منتقلی پر مبارک باد دینا چاہوں گا جو کل اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے ساتھ پیش آیا۔ صدر اشرف غنی اور نئے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے باہمی تعاون اور ملک و عوام سے وابستگی کی یہ مثال قابل تعریف ہے۔

یقینآَ، آگے اور بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر اس نئے قومی اتحادی جعموریت کو تشکیل دینا۔ تاہم، میں امیدوار ہوں کہ یہ جعموریت آگے جاکے صحیح اقدامات اٹھائے گی۔ اور آج حکومت امریکہ اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط ترقی کی نشانی ہے۔ یہ معاہدہ مستقبل میں ہم دو ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک جاری رکھنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

ہماری شراکت بہت اہم ہے، جیسے جیسے آنے والے کچھ سالوں میں ہمارا مشن ایک روایتی سکیورٹی شرکتداری کی شکل اختیار کرئے گا، ہم اپنے افغان ساتھیوں، اور خاص طور پر، افغان اقوامی سکیورٹی فوج ، کی حمایت کرنا جاری رکھیں گے۔ افغان قومی سکیورٹی فوج نے ایک طویل اور مشکل راستہ پار کر لیا ہے اور دشمن کا سامنہ کرنے اور اپنی خودمختاری کی حفاظت کرنے میں لاجواب اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ میں پُراعتماد ہوں اس بات پر کہ اپنے ملک کی سلامتی کے لیئے تمام افغان اس تاریخی موقع کو محفوظ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ”

ہارون احمد
ڈی-ای-ٹی۔ یو۔ایس سنٹرل کمانڈ