قرآن پاک آسان ترجمے اور مختصر تفسیر کے ساتھ.. (سبق )
———————————————————————–
سورہ البقرہ.. آیت 3..

3.. جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں..

تشریح..

3.. بےدیکھی چیزوں کے لئے قرآن کریم نے “غیب” کا لفظ استعمال فرمایا ہے.. اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتیں اور نہ ہاتھ سے چھو کر یا ناک سےسونگھ کر انہیں محسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ صرف اللہ تعالٰی کی وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں..

یعنی یا تو قرآن میں ان کا ذکر ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کے ذریعے وہ باتیں معلوم کرکے ھمیں بتائی ہیں.. مثلا” اللہ تعالی کی صفات’ جنت و دوزخ کےحالات’ فرشتے وغیرہ.. یہاں اللہ کے نیک بندوں کی یہ تعریف کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےارشادات پر یقین کرکے ان چیزوں کو دل سے مانتے ہیں جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھیں..

یہ دنیا کیونکہ امتحان کی جگہ ہے اسلئے اگر یہ چیزیں آنکھوں سے نظر آ جاتیں اور پھر کوئی ایمان لے آتا تو پھر کوئی امتحان نہ ہوتا.. اللہ تعالی نے ان چیزوں کو انسان کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا ہے لیکن ان کے وجود کے بےشمار دلائل مہیا فرما دئے ہیں کہ جب کوئی شخص انصاف سے غور کریگا تو ان باتوں پر ایمان لے آئے گا اور امتحان میں کامیاب ہو گا..

قرآن کریم نے بھی وہ دلائل بیان فرمائے ہیں جو ان شاء اللہ آگے آتے رہیں گے.. ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قرآن کو حق طلبی کے جذبے سے’ غیر جانبدار ہو کر پڑھا جائے اور یہ خیال دل میں رکھا جائے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس میں لاپرواہی برتی جائے..

یہ انسان کی ہمیشہ کی زندگی کی بہتری اور تباہی کا معاملہ ہے.. لہٰذا یہ ڈر دل میں ہونا چاہئے کہ کہیں میری نفسانی خواہشات قرآن کے دلائل ٹھیک ٹھیک سمجھنے میں رکاوٹ نہ بن جایئں اسلئے مجھے اس کی دی ہوئی ہدایت کو تلاشِ حق کے جذبے سے پڑھنا چاہئے اور پہلے سے دل میں جمے ہوئے خیالات سے ذہن کو خالی کرکے پڑھنا چاہئے تاکہ مجھے ہدایت نصیب ہو.. ”یہ ھدایت ہے ڈر رکھنے والوں کے لئے” کا ایک مطلب یہ بھی ہے..

جو لوگ قرآن کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہاں ان کی صفات بیان کی گئی ہیں.. ان میں سب سے پہلی صفت تو یہ ہے کہ ”غیب” پر ایمان لاتے ہیں.. اس میں تمام ایمانیات داخل ہو گئے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے قراآن میں بیان فرمایا’ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سب پر ایمان لاتے ہیں.. دوسری چیز نماز قائم کرنا بیان کی گئی ہے جو بدنی عبادتوں میں سب سے اہم ہے.. اقامتِ صلوة سے مراد پابندی سے اور سنتِ نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے.. تیسری چیز اپنے مال میں سے اللہ تعالٰی کے رستے میں خرچ کرنا ہے جس میں زکٰوة و صدقات آ جاتے ہیں جو مالی عبادات ہیں..

( ——–>>> جاری ہے )

ضیاء القرآن.. پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب..
توضیح القرآن.. مفتی تقی عثمانی صاحب..
احسن البیان.. حافظ صلاح الدین یوسف صاحب..