حسن نثاراور بلوچستان

حسن نثاراور بلوچستان

ملک سراج اکبر


ایسا کیوں ہے کہ جب پاکستانی ’’دانشور‘‘ بلوچستان پر مضمون تحریر کرتے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ تحریر کا اصلی خالق کون ہے؟ اوریا مقبول جان یا حسن نثار؟اگرچہ دونوں کا تعلق سرے سے مختلف مکاتبِ فکر سےہے لیکن پھر جب بات بلوچستان پر آجاتی ہے تو ان کی رائے یکدم ایک جیسی کیوں ہوتی ہے؟اس موضوع پرچند مہینے پہلے ہم نے حامد میر کے ایک کالم کے جواب میں ایک تفصیلی مضمون تحریر کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ پاکستانی دانشور لبرل اور ترقی پسند کتنا کیوں نا ہو لیکن جب بات بلوچستان اور بھارت پر آجائے تو ان کی سوچ پاکستانی فوجی کی فکراور پالیسی سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے کیونکہ پاکستانی دانشور بھی تو مطالعہِ پاکستان کے نصاب پڑھ کر جوان ہوتے ہیں جن کی نظر میں ہندو مکارہوتے ہیں اور بلوچوں کے بارے میں ان کی معلومات صرف اس بات تک ہی محدود رہتی ہے کہ بلوچ سردار ترقی مخالف ہیں اور وہ اپنے علاقوں میں ترقی نہیں ہونے دیتے۔ ان دو جملوں کے ساتھ ہی بلوچستان سے متعلق ان کی معلومات اور بحث ختم ہوجاتی ہے۔محترم حسن نثار کا کالم ’’ بلوچستان کی بجھارت‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میں نے اس کالم کا جوا ب دینے کی اس لئے کوشش کی کیونکہ میرا تعلق بلوچستان کے اس خطے(مکران ) سے ہے جس کا موصوف کے کالم میں کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے، جہاں پر وہ الزامات لاگو نہیں ہوتے جن کو بنیاد بنا کر اسلام آبا د نے بلوچستان کو پسماندہ رکھنےاور فوجی کارروائیاں کرنے کا جواز پیدا فراہم کیا ہے۔ مکران پنجگور، تربت اور گوادر پر مشتمل خطہ ہے۔ جہاں سینکڑوں سالوں سے کوئی سردار یا سرداری نظام نہیں ہے۔

میں نے اپنی زندگی کے چھبیس سال بلوچستان میں گزارے لیکن زندگی کا ایک لمحہ بھی کسی سردار کی نگرانی میں نہیں گزارا۔ حسن نثار کوشاید پتہ نہیں کہ مکران بلوچستان کا لکھنو ہے۔ یہ عطا شاداور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کی سرزمین ہے۔ یہاں سے بلوچ دانشور، بیورکریٹ، ڈاکٹرز اور انجنئیرز پیدا ہوتے ہیں ۔

لیکن آج مکران آزاد بلوچستان کی تحریک کا سب سے مضبوط ترین گڑھ بن گیا ہے۔ یہاں مسلح تحریک کی قیادت کوئی سردار یا نواب زادہ نہیں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے ایک سابق گریجویٹ ڈاکٹر اللہ نذر کر رہے ہیں۔آخر ڈاکٹر اللہ نذر کو بھارت، امریکہ یا اسرائیل نے پیسے دے کر (مبینہ طور پر) کیوں بلوچ آزادی کی تحریک کا رہنما بنادیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نذر کو بھارت، امریکہ یا سرائیل نے نہیں بلکہ پاکستان کی پالیسوں نے آزاد بلوچستان کی تحریک کا رہنما بنایا۔

آواران سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان جب سال دوہزار پانچ میں اپنی میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والا تھاتو خفیہ ایجنسیوں نے موصوف کو کراچی سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سات دیگر طلبہ کے ساتھ اٹھا کر ’’ لاپتہ‘‘ کیا۔ اللہ نذر کو ماروائے عدالت گرفتاری کے دوران بے حد ٹارچر کیا گیا اور جب وہ ایک سال تک لاپتہ ہونے کے بعد رہا ہوئے توانھوں نے آزاد بلوچستان کی تحریک میں شمولیت کی کیونکہ میڈیکل کالج میں انھوں نے جو محنت کی تھی وہ لاپتہ ہونے کے بعد رائیگاں گئی اور ان کا پورا کیئرئیرتباہ ہوگیا۔ اللہ نذر بھارت کی پیداور نہیں بلکہ پاکستان کی ریاستی جبر کی پیداوار ہے۔یہ بات غیر ضروری ہے کہ بلوچستان میں کتنے بلوچ رہتے ہیں اور ان کا تناسب کیا ہے۔ ایک بات جو واضع ہے وہ یہ کہ بلوچستان میں لاپتہ ، ٹارچر اور ہلاک ہونے والے سوفیصد نوجوان بلوچ ہی ہیں۔

اگر بلوچستان میں تیس فیصد پشتون اور گیارہ فیصد ہزاروہ، سندھی اور پنجابی رہتے ہیں تو پھر اس تناسب کے مطابق چند پشتون، ہزارہ اور سندھیوں کو بھی تو لاپتہ ہونا چائیے تھا۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان نے بلوچوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے؟ایسا کیوں ہے کہ ماما قدیر کی تاریخی لانگ مارچ میں ایک بھی پشتون، ہزارہ اور سندھی نہیں ہے؟ بات یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی ’’ بلوچستان کا مسئلہ‘‘ نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ شروع ہی سے ’’ بلوچ مسئلہ‘‘ رہا ہے ۔ لہٰذہ ’’ بلوچ مسئلے‘‘ پر ہونے والے کسی بھی بحث میں پشتون، ہزارہ ، سندھی اور پنجابی کا تذکرہ کرنا دراصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔چونکہ بلوچ براہ راست ریاستی جبر کا شکار ہوئے ہیں لہٰذہ وہ ہی اس مسئلے کے فریق ہیں۔علاوہ ازیں بلوچستان کے جن جن علاقوں میں قدرتی وسائل ہیں وہ سارے کے سارے بلوچ علاقے ہیں۔

سوئی کا گیس فیلڈ ہو یا چاغی میں ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر یا گوادر کی پورٹ، یہ تمام قدرتی وسائل ان علاقوں میں ہیں جہاں کی سو فیصد آبادی بلو چ ہے لیکن المیہ تو یہ ہے کہ حسن نثار کے کالم میں گوادر کا تو سرے سے تذکرہ ہی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اپنے مضمون میں یہی کوشش کی ہے کہ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو کم ثابت کیا جائے اور گوادر جیسے اہم ضلع کا تذکرہ کرناجس میں سو فیصد آبادی بلوچوں کی ہے خود ان کے مضمون کی نفی کرے گا۔

حسن نثار نے بلوچستان میں سرگرم مختلف تنظیموں کے رہنماوں اور ان کی قیادت کے بارے میں تفصیل تو فراہم کی ہے لیکن انھوں نے اپنے قارئین کو یہ بتانے کی ہمت نہیں کی کہ ہزارہ، شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کی ہلاکت میں ملوث لشکرِ جھنگوئی کی قیادت کون کررہا ہے اور اس کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟ انھوں نے سینکڑوں بلوچ طلبہ اور سیاسی کارکناں کی ہلاکت کے ذمہ دار ’’بلوچ مسلح دفاعی تنظیم‘‘ کی قیادت کےبارے میں ہمیں آگاہ نہیں کیا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ’’سپاہ شہدا بلوچستان‘‘ کی قیادت کون کررہا ہے۔انھوں نے کسی ’’ امن لشکر‘‘ کا حوالہ نہیں دیا۔ ان کی خاموشی ایسی ہے جیسے کوئی شخص بنگلہ دیش کی تاریخ پر کتاب تو لکھے لیکن اس میں البدر اور الشمس کا سرے سے تذکرہ نہ کرے۔

حسن نثار صاحب نے علمی کنجوسی کا مظاہر ہ کیا ہے۔ ہمیں یہ تک نہیں بتایا کہ کے طالبان کے ’’کوئٹہ شوریٰ‘ کی قیادت کون کر رہے ہیں اور وہ بلوچستان کے کن کن علاقوں میں کس کی مدد سے گذشتہ تیرہ سالوں سے بڑی دیدہ دلیری سے سرگرم ِ عمل ہے؟ انھوں نے اس تحریک طالبان کی کوئٹہ میں موجودگی پر بڑی ذہانت سے پردہ پوشی کی ہے جس نے یکے بعد دیگرے کئی خود کش بم دھماکوں میں سینکڑوں معصوم شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔چونکہ حسن نثار صاحب نے بلوچستان کے موضوع پر اپنے آنے والے کالمز میں مزید انکشافات کرنے کا وعدہ کیا ہے تو اسی لئے میں بھی اس کالم میں اپنی گذارش انہی الفاظ تک محددو رکھوں گا ۔

جس طرح حسن نثار صاحب نے خود اپنے کالم میں اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں وہ اپنی معلومات زیادہ تر ائیر پورٹ پر موجود مقامی لوگوں سے حاصل کرتے ہیں تو میری ان سے التماس ہے کہ وہ خود زحمت کرکے بلوچستان کی سیر کریں۔ بلوچستان کوئٹہ اور کوئٹہ بلوچستان نہیں ہے۔ صد افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی لبرل دانشوروں کے پاس بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لئے بھارت اور جمہوریت و جمہوری اقدار کو سمجھنے کے لئے امریکہ اور یورپ جانے کے لئے وقت ہوتا ہے لیکن اپنے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں جو آگ لگی ہوئی ہے وہاں جاکر فیلڈریسرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوتی کیونکہ بلوچستان کے بارے میں ’’ معلومات‘‘ فراہمی کی ذمہ داری صرف پاک فوج کی ہے اور پاکستانی دانشور بھی صرف فوجی ورژن پر اکتفا کرتے ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں نام نہاد لبرل دانشوروں کی جہالت فوجی اور ملاوں کی آگاہی سے بھی زیادہ خطرناک ہے