جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے آج ایک بیان دیا ہے کہ اگر تہتر کے آئین کو ختم کیا گیا تو قوم کو اکٹھا رکھنا مشکل ہو جاۓ گا نیز یہ کہ جماعت اسلامی نے تحریک پاکستان کو نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے


ہم مسلمان تو ایک بات جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو متحد رکھنے کیلئے قرآن مجید کی تعلیم ہر گھر میں موجود ہے اس مقدس کتاب کو چھوڑ کر ایک آئین کو قوم کے درمیان اتحاد کا ذریعہ قرار دینا دین اسلام سے مکمل ناسمجھی اور دنیا پرستی کے علاوہ کچھ نہیں


جناب سراج الحق صاحب آپکو تحریک پاکستان نئے سرے سے شروع کرنے کا خیال کیوں آیا ؟ کیا ان الزامات کو واش کرنے کا پروگرام ہے جو مودودی صہب کی کانگریس نوازی اور قائد کی پر زور مخالفت کی وجہ سے آپکے دامن پر بڑے نمایاں دکھائی دیتے ہیں ؟

خیر ایک انصاف پسند ناقد کے طور پر انکے بیان کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے انکے بیان سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ قوم اس وقت متحد ہے کیونکہ تہتر کا آئین موجود ہے اور اگر آئین نہ ہوا تو قوم منتشر ہوجاۓ گی حالانکہ حقائق اسکے بر عکس ہیں


تہتر کا آئین قریبا چالیس سال کا ہوچکا ہے لیکن قوم ابھی تک منتشر ہے اللہ تعالی ایسا اتحاد کسی دشمن کو بھی نہ دے جو سراج الحق ہمارے لئے جانتے بوجھتے ہوے بھی چاہ رہے ہیں شائد افراتفری سے بھرپور معاشرہ انکے امریکن ایجنڈے کیلئے فائدے مند ہو پر قوم کیلئے زہر ہے


فرقہ ورایت ،دہشت گردی ، لسانی و قومی تصادم اور صوبائیت پر مبنی نفرتیں معاشرے کو تباہ کر چکی ہیں، آج کوی پنجابی شخص بلوچستان یا سندھ جا کر آباد ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو پہلے گئے تھے انکو قتل کردیا گیا یا وہ اپنی پراپرٹی کوڑیوں کے بھاو دے کر جان بچا کر واپس لوٹ آئے


سندھ، سرحد اور بلوچستان کے صوبے پنجاب سے سخت نالاں ہیں ، کراچی میں مہاجر ، سندھی جھگڑا، بلوچی اور سندھی جھگڑا اور پنجابی تو بے چارے ہر جگہ مار کھانے کو تیار ملتے ہیں
کسی شہری کی جان و مال محفوظ نہیں ہے بیرون ملک سے پاکستانی یہاں کوی جائیداد خرید لیں تو اس پر قبضہ ہوجاتا ہے


دراصل تہتر کے آئین کے بعد سے آج تک ہم تقسیم در تقسیم ہوے ہیں


اگر آج ہماری قوم کو کوی چیز متحد کرسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب ہے