حکومتی چھٹیاں

حکومتی چھٹیاں

حکومتی چھٹیاں
خبر ہے کے جناب نواز وا ہمنوا رمضان کا اخیر عشرہ مدینہ منورہ میں گزاریں گے

مجھے ایک واقعہ یاد آیا جب حضرت عمر راضی الله اور ایک صحابی رات دیر تک مسلمانوں کے امور پر گفتگو کر رہے تھے تو صحابی نے اٹھ کر نفل پڑھے اور حضرت عمر نے فرمایا کہ میں جو کام کر رہا ہوں ، یعنی مسلمانوں کی فکر اور حکومتی امور کی احسن انجام دہی ، یہ بھی میری عبادت میں شامل ہے.

اب سوال یہ ہے کہ جناب جب آپ کس کے پیسے پر عبادت کرنے جا رہے ہیں ؟
کیا آپ نے عوام کو وہ سب دے دیا جس کا وعدہ تھا ؟ اگر نہیں تو جھوٹا منہ اٹھا کر نبی کے روزے پر کیا کہو گے ؟
کیا عوام خدمات کا فرض ادا ہو گیا ؟
کیا جب آپ آرام دہ ہوٹل میں قیام کریں گے تو عوام سکون میں ہو گی ؟

جس نبی  نے اپنے شکم مبارک پر پتھر باندھ کر خود کو عام آدمی جیسا ظاہر کیا آپ وہاں عام آدمی کے پیسے ہضم کر کے ، قرضے معاف کروا کر اور قرض کا بوجھ عوام پر ڈال کر ، آپ وہاں کیا دعا مانگیں گے ؟

حجاج بن یوسف نے ایک نیک آدمی سے دعا کا کہا تو ان نے دعا کی کہ یا الله حجاج مر جائے کیوں کہ اس کی موت اس کو گناہ سے اور عوام کو اس کے ظلم سے بچا لے گی .

اب ساری قوم سے عرض ہے کہ جو دعا کرنے والی ہے وہ کریں ، الله قبول کرنے والا ہے