پچھلے اڑسٹھ سال سے میڈیا سیاسی جماعتوں مولویوں ججوں اور فوجی آمروں نے اس ملک کی وہ حالت کر دی ہے
کے چلنا تو بہت دور کی بات رینگ بھی نہیں سکتا
یہ بار بار دھوکہ دیتے ہیں اور لوگ اتنے عادی ہو گئے ہیں کے روٹی ملے نہ ملے
دھوکہ کھانا ان کی عادت بن گئی ہے

جیسے

بہت سے لوگ دنیا میں جان بوجھ کر دھوکا کھاتے ہیں۔
انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس بندے پر اپنے خالص جذبات کا خزانہ لٹا رہے ہیں وہ اس قابل نہیں ہے۔
اس کے باوجود انسان بڑا خوش فہم واقع ہوا ہے۔

وہ ایک ذرا سی امید اور خوش گمانی کے چکر میں اپنی محبت کے مدار کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے
کہ شاید کہیں کوئی اندر جانے کا راستہ مل جائے۔

ایسے لوگ جان بوجھ کر اپنے دل کے کہنے پر سرابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں

اور آخر کار تھک ہار کر گرجاتے ہیں