اس سانحہ کے محرکات کیا ہیں ؟

آج سب ایک دوسرے پہ الزام لگا رہے ہیں کہ سیکورٹی لیپس ہے کےپی کے حکومت کی غفلت ہے وغیرہ وغیرہ …لیکن کیا کبھی کسی نے اس زاویے پہ سوچا ہے کہ دہشت گرد ہمیشہ فوجی یونیفارم یا پولیس کا یونیفارم ہی کیوں پہنتے ہیں؟ اور زیادہ تر کرنل جنرل بریگیڈیئر ،ایس پی ،ڈی ایس پی کا ہی یونیفارم استمعال کیا جاتا ہے……
وہ اس لیےکہ ان کو
چیک پوسٹس پر کہیں بھی نہیں روکا جا سکتا …چیک پوسٹس پر جونیئر سٹاف ہوتا ہے جو سینئرز کو چیکنگ کے لئے روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ہائی رینک افسر چیک پوسٹ پہ اپنی شناخت کرانے کو توہین سمجھتا ہے ..اگر کوئی غلطی سے روک کے شناخت کے لئے پوچھ ہی لے تو اس کی کھڑےکھڑے ہی بے عزتی کر دیتے ہیں …..
تمام پوسٹس زیادہ تر پولیس کے انڈر ہیں میرا نہیں خیال کہ کوئی
پولیس والا فوجی وردی پہنے کسی آدمی کو روکنے کی ہمّت کرے گا چاہے اس وردی میں کوئی دہشتگرد ہی کیوں نہ ہو …..اور اگر روک بھی لیا جاۓ تو ایسا کوئی میکانزم نہیں کہ اسکو شناخت کیا جا سکے کہ آئ ڈی ہولڈر اصلی فوجی یا پولیس افسر ہے یا نقلی……سچی بات یہ ہے کہ پولیس والا کسی بھی فوجی کو روکنے کی ہمّت نہیں کر سکتا نہ ہی اس کے پاس اختیارات ہوتے ہیں
ہمارا یہ مجموعی
مائنڈ سیٹ ہے کہ نہ ہم میں سے پاور ہولڈر لائن میں لگنا پسند کرتا ہے نہ ہی اپنی شناخت کرانا پسند کرتا ہے نہ ٹریفک قوانین کی پابندی نہ ہی قانون کی پابندی کرے گا اس مائنڈ سیٹ میں ہر شعبے
..کے لوگ شامل ہیں .یہ ہمارا
قومی المیہ ہے ہم پاور میں آ کر خود کو قانون سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں …
کیا وقت آ نہیں گیا کہ ہم اب اس ذہنیت کو چینج کریں ……..ہم حالت جنگ میں ہیں ہم کو ہنگامی طور پر ایسا میکانزم بنانا پڑے گا جس کے تحت
حساس معاملات میں کم از کم حساس معاملات میں ہی سہی سب کو قانون کے دائرے میں لانا ہو گا …..چیک پوسٹس پی آفیسرز کو اختیارات دینے ہوں گے کہ وہ کسی کو بھی روک کر پوچھ گچھ کر سکے اور بڑوں کو بھی پابند کرنا ہو گا کہ وہ بھی مکمل کو آپریٹ کریں ……..الله میری دھرتی کو سلامت رکھنا …….آمین