عا م لو گ، بہتر ین لو گ

عا م لو گ، بہتر ین لو گ

پاکستان کے ایک مستند ادارے کی ایک مستند محققہ کے مطابق اس ملک میں متوسط طبقے کا حجم، آبادی کا تقریبا چالیس فی صد ہے۔ اگر یہ نتیجہ درست بنیادوں پر اخذ کیا گیا ہے تو ہمارے مستقبل کے بارے میں بدشگونیاں کرنے والے بے مراد اور شرمندہ ہوں گے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ طبقہ استحکام اور ترقی کی بنیادی اکا ئی ہے۔ یہ نہ تو پسے ہوئے انتہائی مجبور معاشرتی حصے کی طرح ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کر نظام کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ اور نہ ہی ان امراء کی مانند ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استحصال کی کسی بھی حد کو چھو سکتے ہیں۔


دونوں انتہائی درجوں میں موجود یہ پڑھا لکھا اور با صلاحیت طبقہ قانون، آئین، ضابطے اور اصول پر عمومی طور پر کار بند رہتے ہوئے ہر وقت حالات میں بہتری کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور اس طرح پر امن انداز سے دیر پا تبدیلیوں کی بنیادوں کو مضبوط کرتا چلا جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے بہترین قیادت ہمیشہ اس طبقے کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ انقلاب میں بھی پیش پیش ہوتی ہے اور ملک سے محبت کی داستان اپنے خون سے رقم کرنے میں بھی سب سے آگے۔ اگر یہ طبقہ پاکستان میں نامساعد حالات کے باوجود پنپ رہا ہے تو یہ ایک خوش آیند امر ہے۔ کم از کم یہ اطمینان تو ہوا کہ بدترین صورت حال میں بھی ملک کو محفوظ بنانے والے موجود ہیں۔ اور اگر کسی طرح یہاں سے متوسط طبقے کے نمایندے منتخب ہونا شروع ہو جائیں تو وہ ملک تخلیق کیا جا سکتا ہے جس کی تلاش ہمیں 1947ء سے ہے۔

مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ اس طبقے کے اپنے مسائل نہیں ہیں۔ متوسط طبقے میں بھی کئی کمزوریاں گنوائی جا سکتی ہیں لالچ، طمع، طاقت کی خواہش اس کی ثقافتی جڑیں ہلا دیتی ہیں۔ اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے ممبران کبھی کبھا ر اس بری طرح بھٹک جاتے ہیں کہ کیا کوئی شیطانی گروہ گمراہ ہو گا۔ وزارتیں مل جائیں تو کالا باغ کے نوابوں کو سختی میں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ چاپلوسی کی عادت ہو جائے تو بھکاری سے بھی بدتر رویہ اپنا لیتے ہیں۔ ظلم کرنے کی علت لگ جائے تو جدی پُشتی جلاد بھی ان کے سامنے رحم کے فرشتے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ مگر شاید بڑی اور خطرناک کمزوری اپنی ثقافت کو چھوڑ کر نت نئے تجربے کرنے کی خواہش ہے جو ذہنی طور پر ایک ایسے انتشار کو جنم دیتی ہے جس کا علاج کسی حکیم کے پاس نہیں ہے۔

متوسط طبقے کے نمایندگان قومی ثقافت کے محا فظ گردانے جاتے ہیں مگر جب یہ طبقہ اغیار کے انداز اپنا لے تو نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ امیر کو قومی تشخص میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر لندن میں بھی اس آسودگی کے ساتھ رہ سکتا ہے جس طرح اسلام آباد، لاہور یا کراچی میں۔ اس کی چُھٹی بیماری، دوستی یاری سب کچھ ملک سے باہر ہے۔ اور غریب؟ اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا پیٹ اس کی پہلی اور آخری محبت ہے جو بھر دے گا وہی مولا اور مالک بن جائے گا۔ حب الوطنی کا چشمہ صفا و مروا کے درمیان ہی پھوٹتا ہے۔ متوسط طبقے کے افراد اُس قومی تشخص کو ترتیب دیتے ہیں جس کی وجہ سے قومیں پہچانی جاتی ہیں۔ آج کل اِس طبقے کی ثقافت پر پے در پے حملے ہو رہے ہیں، اس کے اندر کو تبدیل کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ویسے بھی حکمرانوں نے شروع دن سے اس سرزمین کو ثقافتی تجربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جہاں کے دلفریب نظارے اور نت نئے کرتب نے اچھے بھلے عقلمندوں کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔

کبھی ہمیں شلوار قمیص پہنا دیتے ہیں تو کبھی سوٹ اور ٹائی کبھی ترکی ٹوپی اور کبھی عربی جبہ، کبھی تعلیم اردو میں کر رہے ہیں اورکبھی انگریزی میں، ووٹ مقامیوں سے مانگتے ہیں مگر قانون سازی فرنگی کی زبان میں، حقے کو گنواروں کی نشانی بتلاتے ہیں مگر شیشہ پینا جدید فیشن کی علامت گردانتے ہیں۔کوٹھے کے ناچ گانوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں مگر نئے سال کی پارٹی میں ہل ہل کر جدیدیت کو سجدے کرتے ہیں۔ عید کی نماز پڑھنے کوگناہ سمجھتے ہیں مگر کرسمس پر قمقمے ضرور جلاتے ہیں۔ سر پر دوپٹہ عورت کی توہین سمجھتے ہیں مگر بال ٹھاکروں کے سامنے ماتھے پر بندیا لگا کر بیٹھنے کو ذہنی آزادی کی سب سے اونچی اڑان مانتے ہیں۔ پاکستانیت سے نفرت ہے مگر ہندوستانیت، مغربیت وغیرہ سے الفت۔ اس ملک میں حکمرانوں نے مقامی ثقافت کو کس طرح تاراج و بے عزت کیا ہے، اس کی درجنوں مثالیں آپ کو عکس مفتی کی کتاب کاغذ کا گھوڑا میں مل جائیں گی۔

کسی بھی شہر کے متوسط پاکستانی گھرانے کی بیٹھک یا ڈرائینگ روم کو دیکھ لیں اس کی سجاوٹ دیواروں پر آویزاں تصاویر، کارنس اور میز پر دھری اشیا، چینی کی بنی ہوئی آرائشی چیزیں، ہانگ کانگ سے لائی ہوئی پلاسٹک کی گڑیا، چین سے لائے ہوئے مصنوعی مشینی ڈیکوریشن پیس، پلاسٹک کے پھول، دیواروں پر انگلستان کے کسی گاؤں کا منظر جس میں انگلستان کا آسمان، انگلستان کی سرزمین، کسی بڈھے انگریز کا گھر، انگلستان کے درخت کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منظر دل لبھانے والا ہے پر اس کا اپنے وطن پاکستان سے دور کا تعلق نہیں ۔

ہم پاکستانیوں کو کسی فرنگی، سفید فام کی تائید پر ہی اپنی میراث میں اچھائی اور خوبصورتی کا یقین ہوتا ہے۔ نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فن کار کو ہی لے لیں۔ بیچارا نصف سے زیادہ زندگی چھوٹے چھوٹے مزاروں اور درباروں پر رات رات بھر قوالی کر کے اپنی اور اپنے ہم جولیوں کی گزر اوقات کرتا۔ شاید ان مزاروں کے بزرگان دین کی برکت سے چند ٹکے ویل کی صورت میں مل جاتے۔

ایک دن ایسا ہوا کہ یورپ کے شہرت یافتہ موسیقار Peter Gabrial نے نصرت کی کوئی البم سُن لی۔ سُن کر وہ چونک اٹھا۔ اس نے ایسی آواز، ایسے ماہرانہ اتار چڑھاؤ، ایسا موسیقی کا انگ اور ایسی اونچی تان کبھی نہ سنی تھی۔ اس نے اسی وقت نصرت کو ڈھونڈ نکالا۔ اور اپنی فلم Dead Man Walking میں نصرت کی آواز کو ایسی خوبصورتی سے پیش کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔

پھر کیا تھا نصرت مغربی دنیا میں مشہور ہو گیا۔

کچھ ہی عرصے میں یورپ سے کمائی ہوئی شہرت کی دھمک پاکستان پہنچی تو اونچے ایوانوں میں بڑی سوسائٹی کی محفلوں میں ہم پاکستانیوں نے بڑے فخر سے یہ کہنا شروع کر دیا

Oh! Nusrat he is my favourite.I love Qawali.
نصرت میرا فیوریٹ فنکار ہے۔ مجھے تو یہ بہت پسند ہے۔ میں تو شروع سے ہی اس کی آواز کا دلدادہ ہوں اور قوالی تو میں پوری رات سن سکتا ہوں۔ ( کاغذ کا گھوڑا)

تاریخی حقائق پر بنیاد کی ہوئی یہ یا داشتیں ممکن ہیں آپ کو افسر شاہی کے خلاف چھپے ہوئے غصے کا طنزیہ اظہار لگے مگردر حقیقت یہ وہ قصے ہیں جن میں اس ملک کے چلانے والے اس کی حقیقی ثقافتی تشخص کے خلاف بر سر پیکار نظر آئیں گے۔

پاکستان کے فنکار، ہمارے افکار، ہماری بود و باش، رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، جینا مرنا۔ یعنی سب کچھ۔ بے وقعت قرار دیے جانے کی کوشش ابھی بھی جاری ہے۔ تحریر، تقریر، تصویر، تقدیر سب پر طرح طرح کی مہریں ثبت کی جا رہی ہیں۔ ہمیں ہر لمحے یہ باور کروا یا جاتا ہے کہ ہم ایک پست اور پسماندہ قوم ہیں۔ جس کو سانس لینے کے لیے بھی بیرونی آکسیجن کی ضرورت ہے۔ ہمیں طرح طرح کی چادروں میں لپیٹ کر دنیا کی منڈی میں قابل قبول مال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان گمراہی کے خضروں کے جھنڈ میں آپ کو کہیں کہیں وہ جھوٹے نبی بھی نظر آئیں گے جو اس ملک سے وفاداری کے دعوے باندھتے ہیں اور ظاہرا پشاوری چپل اور شلوار پہنے اپنے سے نظر بھی آتے ہیں۔ مگر دھوکہ نہ کھائیے گا۔ یہ نیم حکیم بے ایمان بھی ہیں اور خطرہ جان بھی۔

یہ دن مشرق میں راتیں مغرب میں گزارنے کے عادی ہیں۔ یہ صبح آپ سے غم گساری کرتے ہیں اور شام کو آپ پر ہنستے ہیں۔ یہ طاقت کے کھلاڑی ہیں۔ اس ملک کی زمین ان کے لیے اپنی دیرینہ خواہشوں کو پورا کرنے کا ایک میدان ہے اور کچھ نہیں۔ ان حالات میں متوسط طبقے کو بالخصوص ہوشیار رہنا ہو گا۔ اس کو اس سرزمین کے ساتھ جُڑ کر ملک کو آگے پہنچانے کا سوچنا ہو گا۔ ان کا اصل کام اپنے ملک کے ا صلی وجود سے آشنائی حاصل کر کے اس کا تحفظ کرنا ہے۔ پاکستان کو بنانے والا نہ کوئی کھلاڑی تھا نہ مداری اور نہ کاروباری۔ وہ ایک متوسط طبقے کا باصلاحیت اور بااصول قائد تھا۔ جس کا کوئی کام قول و فعل سے متصادم نہیں تھا۔ اس ملک کو بچانے اور چلانے کے لیے بھی ایسے ہی لوگ چاہئیں۔ عام لوگ۔ بہترین لوگ۔