ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کے حاکمیت خدا کی ہے ۔ ہمارے ایمان کے مطابق اس دنیا کو خدا نے بنایا ہے یعنی صرف پاکستان نہیں بلکہ ایران ، امریکہ ، فرانس وغیرہ ہر ملک ہی خدا نے بنایا ہے ۔ خدا کی حاکمیت تو پھر ہر ملک پر موجود ہے پھر ہمارے ہا ں ایسی کیا خاص بات ہے ۔اس تصور کو اگر اور بڑھایں تو اسکا مطلب یہ بھی ہوگا کے خلافت عثمانیہ کا بنا اور ٹوٹنا ، انگریزوں کا ہندوستان پر قبضہ، ہندوستان کے ٹوٹنے سے پاکستان کا وجود میں آنا یا پاکستان کے کے ٹوٹںے سے بنگلہ دیش کا وجود میں آنا بھی یا جنگ عظیم اول اور دوئم میں ۱۰ کروڑ لوگوں کا مرنا بھی خدا کی مرضی سے ہوا ہوگا ۔

یہ فلسفہ کی بحث ہے کے فرد اور معاشروں کو اپنے عمل پر کس قدر اختیار ہے ،پھر کبھی سہی اس وقت تو میرا کہنا یہ ہے کے باقی سارے جمہوری ملکوں کی طرح ہم بھی یہ مان لیں کے تمام عملی تقاضوں کیلیے کسی بھی ملک کے عوام ہی اسکے مالک ہیں ۔اسکا مطلب یہ ہے کے جو گروہ بھی انکی مرضی کے بغیر حکومت کرتا ہے وہ قبضہ گروپ ہے چاہے اسلام ، سوشلزم یا فوج کے نام پر ہے وہی قبضہ گروپ ۔ چاہے کتنا ہی سچا ہو کتنا ہی قابل ہو عوام کی مرضی سے ہی جائز حکومت کرسکتا ہے ۔