کسی بھی معاشرے کے بنیادی فرائض میں سے ایک اہم فریضہ اسکے شہریوں کو اچھی صحت کے ساتھ لمبی سے لمبی عمر ملنا ہونا چاہیے ۔ دنیا میں بعض ایسے صحت افزا مقامات ہیں جہاں کے لوگ سادہ غذا ، سکون اور محنت کے طفیل لمبی عمر پاتے ہیں لیکن باقی دنیا میں خاص طور پر شہری زندگی میں یہ ممکن نہیں ۔ہے تمام ہی ترقی یافتہ ممالک میں اوسط عمر ۸۰ سال کے آس پاس ہے حالانکہ وہ شراب بھی پیتے ہیں ، نشہ بھی کرتے ہیں اور بھی ایسا بہت کچھ کرت…ے ہیں جس سے اصولا انکی صحت گرنی چاہیے اور انہیں جلدی مرجا نا چاہیے ۔

ہمارے جیسے ملکوں میں اوسط عمر پچاس سے ساٹھ کے درمیان ہے یعنی وہ ہم سے ۲۰سے۲۵ زیادہ زندہ رہتے ہیں ۔ یہ ایک تلخ سچای ہے لیکن میرے لیے ایک حیران کن حقیقت کچھ اور ہے .تفصیلات میں جاے بغیر اوسط عمر کے متعلق امریکہ اعداد و شمار ۔
۱۹۰۰ میں عورتوں کی اوسط عمر اڑتالیس سال ۱۹۹۸میں ۸۰ سال یعنی اسی آب و ہوا میں رہتے ہوے سو سال میں انہوں نے عورتوں کی اوسط عمر میں ۳۲ سال کا اضافہ کرلیا ۔ اصل میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہے لیکن بہت بڑی تعداد میں غریب ملکوں سے آے ہوے کمزور صحت کے مہاجرین کی وجہ سے اوسط گر جاتا ہے ۔ یہ کیا جادو ہے ؟
کافر ، گناہ گار ہم سے زیادہ صحت مند ، ہم سے زیادہ فعال اور رہتے بھی ہیں ہم سے زیادہ زندہ ، آخر کیوں ?