’مجھے ابھی تربیلہ جانا ہے‘

’مجھے ابھی تربیلہ جانا ہے‘

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آخری وقت اشاعت: بدھ 26 فروری 2014 ,* 14:58 GMT 19:58 PST 



نواز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدگی سے شرکت نہ کرنے پر حزب اختلاف کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے

بدھ کے روز پاکستان کے ایوانِ زریں یعنی قومی اسمبلی کے ہال میں ارکان کی تعداد گُذشتہ دو روز سے ہونے اجلاسوں سے زیادہ تھی اور کچھ لوگ شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ چونکہ ملک میں جاری شدت پسندی کی کارروائیوں کو روکنے اور ان کے سدباب کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے قومی سلامتی کی پالیسی کا مسودہ پیش کیا جارہا ہے، اس لیے جذبۂ حب الوطنی کے سرشار ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ارکان قومی اسمبلی کے اجلاس میں بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اجلاس میں شرکت تھی۔ میاں نواز شریف کی قومی اسمبلی کے ہال میں آمد کے موقع پر حزبِ مخالف کی جماعتوں کے ارکان نے حزبِ اقتدار کے ارکان کے مقابلے میں سب سے زیادہ ڈیسک بجائے۔

ارکان اسمبلی بالخصوص حزبِ اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی میاں نواز شریف سے ہاتھ ملاتے رہے جس کا مقصد ایوان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دے رہے اس لیے وہ اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے۔ میاں نواز شریف وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایوان بالا یعنی سینٹ کے اجلاس میں ابھی تک شریک نہیں ہوئے۔
وزیر اعظم نے ایوان سے کہا کہ وہ اس پالیسی پر مزید بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن کی مجبوری یہ ہے کہ اُنھیں ایک منصوبے کا افتتاح کرنے کے لیے تربیلہ جانا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے جب قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پالیسی کے مسودے پر تقریر کرنی شروع کی تو پہلے تو کچھ دیر تک ارکان اسمبلی اُن کی تقریر کو بڑے انہماک سے سُنتے رہے لیکن پھر اُنھیں اپنے کام بھی یاد آگئے اور وہ فائلیں لیکر وزرا کے پاس پہنچ گئے اور اپنے کام کرواتے رہے۔

خواتین ارکان پارلیمنٹ کو بھی قومی سلامتی کی پالیسی میں بظاہر کوئی دلچسپی نظر نہیں آرہی تھی اور حزب مخالف اور حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والی ارکان قومی اسمبلی میں آپس میں خوش گپیوں میں مصروف رہیں۔

یاد رہے کہ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث ہو رہی تھی تو اُس وقت صرف وہی ارکان موجود تھے جنہوں نے تقریر کرنی تھی اور حکومتی سنجیدگی کا اندازہ بھی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایوان میں کورم کی نشاہدہی کی گئی تو وزرا میں سے صرف خارجہ اور قومی سلامتی کے امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز ایوان میں موجود تھے

وزیر داخلہ اس سے پہلے قومی سلامتی کے خدوحال کے بارے میں ایوان میں بات کرتے رہے ہیں لیکن اُنھوں نے جب پالیسی کا مسودہ پیش کیا تو اُس میں اُنھوں نے اس پالیسی کے مزید خدوخال تو نہیں بتائے البتہ وہ صوبوں کی طرف سے اس پالیسی کی تیاری میں عدم تعاون کا گلہ کرتے ہوئے نظر آئے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اگرچہ اس پالیسی پر تو کوئی بات نہیں کی البتہ اُنھوں نے حکومتی اور طالبان کی کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں حزبِ مخالف کو اعتماد میں نہ لینے سے متعلق گلہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

قائد ایوان میاں نواز شریف نے بھی اپنی تقریر میں اس پالیسی سے متعلق کوئی قابل ذکر بات نہیں کی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ایوان میں موجود جماعتوں کی طرف سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے جو تجاویز آئیں گی اُنھیں اس مسودے میں شامل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے ایوان سے کہا کہ وہ اس پالیسی پر مزید بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن کی مجبوری یہ ہے کہ اُنھیں ایک منصوبے کا افتتاح کرنے کے لیے تربیلا جانا ہے: ’مجھے ابھی تربیلہ جانا ہے، میں لیٹ ہو چکا ہوں۔‘

وزیر اعظم کے ایوان سے چلے جانے کے بعد حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی ایوان سے چلے گئے۔