،،مودی کی چائے ، اورابامہ کی تھپکی


قوموں کا بڑا حصہ جب تعصب میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو اس پر غیر معیاری ،نا اہل اور کوتاہ نظر قیادت سوار ہوجاتی ہے جو اپنے پرکھوں کی محنت پر پانی پھیر کر قوم اور ملک کا مستقبل مخدوش کردیتی ہے،ایسا ہی کچھ جناب مودی کے ہاتھوں بھارت کا ہوتا نظرآرہا ہے،کانگریس نے بھارتی قوم کی تعمیر کیلئے انتھک محنت کی، گرانقدر خدمات انجام دیں،،مگر اب،،،،،، افسوس

صدر ابامہ بھارت کا دورہ کرکے اپنے ملک سدھار لئے،اور جیسا کہ امید تھی،، بھارت کو علاقہ کا چودہری بنانے اورسلامتی کونسل میں مستقل سیٹ دلانے میں مدد کی امید پر اسے امریکن قرض اور اسکے بدلے امریکن کمپنیوں کی جکڑبندئیوںمیں بخوشی اپنی گردن پھنسا لینے پر رضا مند کر گئے

اگرآپ حیرت کریں ،کہ بھارتی معیشیت کے استحکام اور اسکی جی ڈی پی کی بڑھوتری کا اسقدر شور غوغا کرنے کے بعد بھار تی حکومت کو آخر ایسی کیاضرور ت پڑرہی تھی کہ اس نے چار ارب ڈالر لیکر اپنی ترقی کرتی ہوئی معاشیات کے تابوت میں کیل ٹھونکنا پسند کیا اور سوا ارب بھارتیوں کا مستقبل چچا سام کی غلامی میں دیدیا تو حیرت بجا ہوگی، مگر تعصب،اور مخالفین کو مٹادینے کی خواہش آنکھوں پر پردہ ڈالدیتی ہے اور پھر

یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں استحصالی ممالک کی ڈپلومیسی اپنی تما م تر چالبازیوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ،کہ کسطرح قوموں کی بیوروکریسی کو قابو کیا جاتا ہے،اور کسطرح ملکوں پر سوار معیار سے گری ہوئی حکومتوں اور لیڈروں کی پیٹھ تھپک کر قوموں کے خزانوں کا رخ اپنے ملک کی طرف کیا جاتا ہے لگتا ہے اپنی احمقانہ سیاست کی بدولت بھارت اس چکر میں پھنس گیا ہے،اب اس ملک کے ساتھ پے در پے ایسے واقعات ہونے جارہے ہیں کہ اگلے دس سال میں یہ واپس تیسری دنیا کے سسکتے ہوئے ملکوں میں شامل ہوجائیگا

مودی صاحب اس طور تو قابل ستائش ہیں ،، کہ وہ وہ معاشرے کے انتہائی نچلے طبقہ سے اس جگہ تک پہونچے ،اور دوسرے یہ ،،کہ بھارت کے بڑے سرمایہ داروں کا فرنٹ مین ہونے کے باوجود بظاہر کسی بڑ ے مالیاتی کرپشن میں ملوث نظرنہیں آتے،مگر کیسا افسوس ہوتا ہے جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ انکی یہ خوبیاں انکی متعصب ذہنیت اور بنیاد پرست فطرت نے برباد کردیں،

جیسا کہ تجربہ ہے تعصبی انسان بزدل ہوتا ہے ،اور جس سے کسی وجہ سے تعصب رکھتا ہے،اسے دل ہی دل میں اپنا دشمن بنالیتا ہے، اب اگر خود ساختہ دشمن کی طاقت زیادہ محسوس کرتا ہے تو اسکے برابر آنے کیلئے اپنی ہر چیز برباد کرنے پر تل جاتا ہے، چاہے مستقبل میں اسکا کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ ہو مودی صاحب علاقہ کے مسلم ممالک اور اسکے بعد چائینا کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی خواہش میں پھنکے جارہے ہیں،ایسے لوگ اپنی قوم کی بہبود کیلئے کام نہیں کرتے ، بلکہ اپنے خود ساختہ بنائے ہوئے دشمن کو مکمل برباد کرنے کے خواب کی تکمیل میں تمام قومی وسائل،صلاحیتوں ، اور شخصی طاقتوں کو اس میں جھونک دیتے ہیں،اور آخر کار خود بھی فنا ہوجاتے ہیں،اور اپنی اچھی خاصی قوم کو بھی برباد کردیتے ہیں

قریبی تاریخ میں ہٹلر کی مثال ہمارے سامنے ہےجو اپنے تعصب اور پر تشدد طبعیت کی وجہ سےخود بھی ناجائز موت کا شکار ہوا، اور ملک کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر گیا وہ بھی اس صورت میں جبکہ جرمن ایک قوم ہیں،بمقابلہ بھارت کے جو کئی سو قوموں کے جبری اتحاد کا نام ہے،کیا مودی صاحب مسلمانوں کے معاملے میں ہٹلر کے نقش قدم پر چلے کی کوشش کر رہے ہیں،،اگر ایسا ہے تو انکے اور بھارت کیلئے ،برا ہے

آزادی کے بعد ،بھارت کے سچے رہنماؤں نے اپنے ملک کو دنیا کے جھگڑوں سے الگ رکھتے ہوئے ،قوم کی جو تعمیر کی تھی،اور جو غیر جانبدار راہ ملک کے لئے متعین کی تھی، آج 68 سال بعد مودی صاحب نے اپنے ہی ملک کی ایک بڑی اور پرامن اقلیت کے تعصب میں اسے بند کردیا ہے

مشترکہ اعلامیہ اور اس پر مودی اور انکی سرکار کو بغلیں بجاتے دیکھ کر ناقابل یقین حیرت ہوتی ہے،
بھارتی تھنک ٹینک اور معتدل عوام کو سوچنا چاہئے کہ آخر بھارت سرکار نے اپنے عوام کیلئے امریکن سپر پاور سے کیا حاصل کیا ہے؟
سوائے تعصب سے بھرے خوابوں کی تکمیل کیلئے وعدوں، اورتھپکیوں کے

اور امریکنوں کو کیا دیا ؟، اپنے ملک کی ابھرتی ہوئی ،تسلی بخش معاشیات کی لگام،، ہے نا حیرت کی بات
چیدہ چیدہ نکات پر غور کریں تو مزید حیرت ہوتی ہے

۔ ایٹمی مواد کو ٹریک نہیں کیا جائیگا

جب ٹریک ہورہا تھا تو بھارت کا کیا بگڑ رہا تھا، اور کونسا کام رکا ہوا تھا، کیا اس نے ایٹم بم نہیں بنایا
اور کیا ہر وہ ریسرچ جو اس نے کرنی چاہی، نہ کی،، تو یہ کونسی مراعت ہوئی جو بھارت نے اپنی معاشی غلامی کے بدلہ سپر پاور سے حاصل کی؟

ایٹمی کلب کا ممبر بنوادیا جائیگا

کیسے؟ اس کلب کے 28 ممبر ہیں ،اگر ایک بھی نہ چاہے تو بھار ت ممبر نہیں بن سکتا،کیا روس جس سے بھارت اسکی پریشانی کے وقت آنکھیں پھیر چکا ہے، ایسا کرنے دیگا؟ کیا روس اس معاملہ میں امریکہ کا ساتھ دے سکتا ہے؟اور دوسرے ممبر ممالک امریکن پریشر میں آجائینگے ، وہ کیا طلب کریں گے بھارت سے؟ظاہر ہے تجارتی بیلنس اپنے حق میں،،،،،تو بھارت کے غریب عوام کا مودی حکومت کیا حشر کرنے جارہی ہے؟

سلامتی کونسل کی مستقل سیٹ دلا دی جائے گی

کیسے دلادی جائے گی،،سلامتی کونسل میں چائینا بیٹھا ہے، جس کو گھیرنے کی بھارت تیاری کر رہا ہے،،وہ اسے ویٹو نہیں کرے گا؟امریکہ ، چائینا کو کس طرح اس بات پر راضی کرلے گا کہ وہ اس بھارت کو جو چائینا کو معاشی طور پر برباد کرنے کیلئے ہر ذریعہ، اور فوجی طور پر تباہ کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہا ہے، سلامتی کونسل میں بٹھا لے؟کیسے یقین کرلیا بھارتی قیادت نے کہ ایسا ممکن ہے،

بھارت کو بحر ہند اور ملحقہ سمندروں پر اجارہ داری قائم کرنے میں مدد دی جائیگی

روس،چین ،پاکستان ،ایران اس چیز کی اجازت دیدیں گے؟کیسی عقل کی بات ہے،اور کون سے خواب ہیں یہ
صرف یہ نکات ہی ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر، بھارت کی حکومت اور بیوروکریسی کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہتا ہے،کون ان کو سمجھا سکتا ہے کہ علاقہ چودہری بننے کے چکر میں کہیں تم اپنی اندرونی آزادی تو گنوانے نہیں جارہے ہو،

بھارتی بزرگوں اور خاص طور سے کانگریسی لیڈروں نے بھارت کو مستحکم، اور یکجا کرنے کیلئے جان توڑ محنت کی،بھارت کی صنعت اور تجارت کو ایک مناسب راہ پر ڈالا، ایسے راہ پرجسکی وجہ سے آج بھارت تیسر ی دنیا کے ممالک میں ایک حد تک کسی مقام کا حامل گردانا جاسکتا ہے،
مگرافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مودی حکومت کے بے وقوفانہ اقدامات، بھارت کو مغرب کی معاشی غلامی کی طرف لے جانے کی شروعات بننے والے ہیں
منہ زور
جنوری 30
2015