ایک سیاسی پارٹی کے ھیڈ آفس سے ستائیس ٹارگٹ کلرز اور سزا یافتہ قانون کو مطلوب افراد
کا ملنا اور وھاں سے غیر قانونی غیرملکی اسلحہ برامد ھونا کوئی معمولی بات نہیںکہ اس سے آنکھیں چُرائی جا سکیں ۔ پاکستانی قوم کے خدشات اب یقین میں بدلنے لگے ھیں کہ ایم کیو ایم کے بارے جو کچھ کہا جاتا رھا ھے وہ سیاسی مخالفت کی بنا پر نہیں بلکہ شواھد اور ثبوتوں کے ساتھ سچ ثابت ھو رھا ھے ۔ ایک ایسی پارٹی جو عوام کی نمائندگی کی دعویدار بھی ھو اور غیر قانونی کاموں میں بھی مبتلا ھو اسے سیاسی پارٹی کہلوانے کا کوئی حق نہیں ۔ اس نے نہ صرف اپنے ووٹرز کا اعتماد مجروح کیا ھے بلکہ اپنی سیاسی طاقت کو بھی قانون کی خلاف ورزی بلیک میلنگ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے لئے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا اس کو سیاسی پارٹی سمجھنا درست ھے ۔ کوئی ھے کہ قوم کو اس سوال کا جواب دے یا دلا سکے؟
انصاف کی مسند پر براجمان کیوں نہیں سو موٹو ایکشن لیتے اور تجریک انصاف اور جماعت اسلامی دوسری ھم خیال پارٹیز کے ساتھ مل کر عدالت کا دروازہ کھکھٹانے سے کیوں گریزاں ھیں؟
کیا اب بھی کسی شک کی گنجائش باقی ھے ۔ یا قوم کے خدشات درشت ثابت نہیں ھوئے کہ کراچی اور حیدراباد کا کونسا گروہ سیاسی پارٹی کے لبادے میں امن نھیں ھونے دیتا اور کس گروہ نے کراچی کی عوام کو خوف اور دھشت کی فضا میں یرغمال بنا کر رکھا ھوا ھے
پاکستانی عوام جہاں صاحبانِ اقتدار سے اس کے خلاف ایکشن کی توقع کر رھے ھیں وھیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی سو موٹو نوٹس لینے کا مطالبہ کرتےھیں تاکہ کراچی پھر ایک بار پھر امن کا گہوارا ور روشنیوں کا شہر کہلا سکے ۔
مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ھو تو حشر أٹھا کیوں نہیں دیتے