آج رشِدہ بہت پرِشان تھی
کیونکہ اس کا شادی میں پہن کر جانے کیلئے جوڑا بہت میلا ہوچکا تھا،
اور بار بار وہی جوڑا پہن کر جانا بھی اچھا نہیں لگتا تھا آج تو اس نے اپنے شوہر کو منع ہی کردیا تھا کہ جب تک نیا جوڑا بن کر نہیں آئے گا، وہ کسی شادی میں نہیں جائے گی،

کیونکہ پرانے جوڑنے کی چمک بھی ماند پڑچکی تھی، اور جس شادی میں بھی جاتی تھی، عورتیں اکثر اس کے جوڑنے کو دیکھ کر ہنستی تھیں،

اور اسی لے وہ کسی سے بھی آنکھیں نہیں ملا سکتی تھی، آج جس شادی میں جانا تھا وہ تو شاید کسی بڑے امیر گھرانے کی لگتی تھی، کھانا بھی یقینا بہترین ہی ہوگا، لیکن کیا کرتی بیچاری کو اسکے شوہر کی ڈانٹ نے خاموش کرا دیا،!!!!!

اس کا اب دل تو نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ مذاق کا نشانہ بنے، اس لئے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اب آخر میں ہی جائے گی، جب کھانا شروع ہوجائے گا، اسکا شوہر تو ناراض ہوکر چلا گیا، لیکن یہ بھی کیا کرتی شوہر کو ناراض بھی نہیں دیکھ سکتی تھی،

مجبورا اس نے وہی جوڑآ جلدی جلدی پہنا اور فورا باہر نکل گئی، شادی ہال گھر کے پیچھے ہی تو تھا، پانچ منٹ میں وہ شادی کی گہماگہمی میں مصروف نظر آرہی تھی اور سب سے گھل مل کر باتیں کرنے میں تو ایسا لگتا تھا کہ اس نے کوئی ڈگری لی ہوئی ہے، لگتا تو ایسا تھا کہ جسے یہی میزبان ہو،

کچھ ہی دیر میں کھانا شروع ہوگیا، اور یہ بھی اپنی ایک وہیں پر بنائی ہوئی سہیلی کے ساتھ کھانے کی طرف باتیں کرتی ہوئی چل دی، جسے ہی اس نے پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، اسی اثنا میں ایک محترمہ نے اس کے کندھے پر تھپتھپایا اور کہا کہ،!!!!!!! ذرا سنیں دلہن کی امی آپ کو بلارہی ہیں،!!!!

ر شیدہ کچھ پریشان سی ہوگئی، کیونکہ وہ دلہن کی اماں کو تو نہیں جانتی تھی، خیر وہ اسی خاتون کے پیچھے پیچھے چل دی، جیسے وہاں پہنچی، تو وہاں دلہن کی ماں نے بڑے پیار سے پوچھا کہ ،!!!!! خیر سے آپ شآید دولہا والوں کی طرف سے آئیں ہیں،

وہ تو گھبرا سی گئی، اور ہکلاتے ہوے کہا کہ جی !!!!!، جی !!!!!! جی ،!!!!!!

انہوں نے فورا کہا کہ میں ہی دولھا کی والدہ ہوں

اور آج میں تم سے کہہ رہی ہوں کہ اگر آیندہ کبھی کسی شادی ہال کے قریب بھی تم یا تمھارا کوئی بھی آدمی نظر آیا، تو سیدھا تھانے میں بند کرادونگی