حالیہ جلسوں میں شمولیت کرنے والی خواتین کے کردار پر جو باتیں کی گئی اور ابھی تک جاری ہیں، ان سب سے ھم آگاہ ھیں۔ وہ ملی نغموں پر ہاتھ ہلاتی ہیں تو اسے رقص کہا جاتا ہے اور عمران خان کی پارٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل کی بجائے اس اشو پر بات شروع ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے سے ہماری قوم میں بڑھتی ہوئی دوریاں اور بد گمانی کی بیماری واضح ہوگئی ھے۔ اس بد گمانی کا نتیجہ یہ ہے کے ہم اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں سے تعصب میں مبتلا ھو جاتے ہیں اور کسی دوسرے کی چھوٹی برائی بھی بہت بڑی نظر آتی ہے۔

جیسے کہ ان جلسے میں آنے والی خواتین میں سے اگر کوئی سر پر دوپٹا نا لے تو انہیں فحاش کہا جاتا ہے، ملی نغموں پر ہاتھ ہلائے تو اسے بیہودہ ڈانس کہا جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کے قریب کھڑی نظر آئے تو طرح طرح کی باتیں گھڑ لی جاتی ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کے یہ ساری باتیں بد گمانیاں ہیں اور تعصب پر مبنی ہوتی ہیں، جو کہ خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ” بد گمانی سے بچتے رہو، کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں۔ لوگوں کے عیوب تلاش کرنے میں نا لگو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ اور اللّہ کی عبادت کرنے والوں، آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو” صحیح بخاری ۶۰۶۴، جلد ۷

تو اگر آپ دوسرے مسلمانوں کے بارے میں بد گمانی کر رہے ہیں، تو آپ بھی کوئی نیکی کا کام نہیں کر رھے۔ اُمید ہے آپ اس بات پر غور کریں گے۔