کسی بھی ٹیم کیلئے کھیلنے کا حق رکھتا ہوں

کسی بھی ٹیم کیلئے کھیلنے کا حق رکھتا ہوں


 


میں گزشتہ 17 سالوں سے پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا ہوں اور اس دوران ڈپارٹمنٹ نے متعدد وعدے توڑے ہیں، شعیب ملک۔ فوٹو: پی سی بی

کراچی: قومی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کے ڈومیسٹک سیزن کو چھوڑ کر آسٹریلین “بگ بیش ٹی 20″ کھیلنے کے فیصلے پر اپنی ٹیم پی آئی اے سے شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی کردار کشی نہ رکی تو وہ کسی بھی اور ٹیم کے لیے کھیلنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

پی آئی اے کے ڈپٹی جنرل منیجر شعیب محمد نے ٹی وی انٹرویو میں دعوی کیا ہے کہ شعیب ملک نے “بگ بیش ٹی 20″ میں ہوبارٹ کی نمائندگی کرنے سے قبل مینجمنٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔، ہم بغیراجازت ٹیم کو چھوڑنے پر انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کر سکتے ہیں، شعیب ملک ہمارے تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ٹیم ميں ان کی کمی کو شدید طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نے شعیب ملک نے بھی ان رپورٹس پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک انٹریو میں شعیب ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ اور پی آئی اے دونوں سے اجازت لی تھی، میں گزشتہ 17 سالوں سے پی آئی اے کی طرف سے کھیل رہا ہوں اور اس دوران ڈپارٹمنٹ نے متعدد وعدے توڑے ہیں لیکن میں ان کے لیے مسلسل کھیلتا رہا۔ شعیب ملک کا مزید کہنا ہے کہ اگر ان کی کردار کشی نہ رکی تو وہ کسی بھی اور ٹیم کے لیے کھیلنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔