گیارہواں کمّی

نجمہ ثاقب
وسط پوس(پوہ) کی رات کا آخری کنارہ ٹوٹ رہا تھا جب مولوی حسن دین پکی گلی کے کھجور والے سرے سے نمودار ہوئے۔ اس رات تاریکی حد سے بڑھی ہوئی تھی اور سرد ہوا جسم کو بَرمے کی طرح کاٹتی تھی۔
یہ اُن کا معمول تھا۔ وہ فجر سے بہت پہلے مسجد آ جاتے۔ تہجد کی نماز ادا کر چکنے کے بعد ذکر اذکار کرتے اور جب کھُلے پیٹوں والی چاٹیوں میں رنگ برنگی دودھ بلونیاں تھرکنے لگتیں اور سوتی جاگتی گلیوں کے پامال سینوں پر بیلوں کے قدموں کی دھمک اُن کے گلوں میں بجتی ٹلیوں سے ہم آہنگ ہونے لگتیں تو مولوی حسن دین کی گونجیلی اذان مسجد کے مناروں سے نکل کر فضا میں تیرتی پورے گاؤں پر تنبو سا تان لیتی۔
مولوی حسن دین کے والد مولوی چراغ دین کب اس گاؤں میں آئے تھے، اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا تو مشکل ہے۔ ’’اماں کالعہ‘‘ چودھری عطاء محمد کی والدہ کے مطابق اس سال دریائے چناب میں زبردست ’’کانگ‘‘ آئی تھی جس نے چناب کنارے کے ’’بیلے‘‘ اور ’’ترائی‘‘ کے گاؤں اکھاڑ پچھاڑ کے دریا
میں ڈال دیے تھے۔ تب مولوی چراغ دین اور اُن کا خاندان اپنے جیسے لٹے پٹے لوگوں کے ساتھ چندکوس کے فاصلے پر چیلیانوالہ سے باہر ٹھیک اس اونچے ٹیکرے پر آ کے ٹھہرا تھا جہاں انگریز بہادر اور سکھوں کے درمیان وہ تاریخی لڑائی ہوئی تھی جسے دیکھنے کے لیے چودھری عطاء محمد کے والد اور چچا گھوڑوں کی ننگی پیٹھوں پر سوار ہو کے بھاگے تھے جہاں انگریزوں نے وہ یادگاری منارے تعمیر کیے تھے جنھیں دیکھنے کے لیے آج بھی لمبوترے چہروں والے پھیکے انگریز اور موسلی کے دستوں جیسی کَسی ننگی ٹانگوں والی میمیں آتی تھیں۔


خود مولوی حسن دین نے اپنے والد سے یہ سنا تھا کہ دریا پار بیلوں میں ان کا آبائی گھر اور اونچے مناروں والی وہ مسجد تھی جسے ان کے دادا مولوی الہ بخش نے آباد کیا تھا۔ جس کی دیواروں کے کچے کنگرے ہمیشہ سفید چونے سے لپے رہتے تھے اور جس کے اکیلے کمرے کی کھردری چٹائیاں کبھی سجدوں سے خالی نہیں ہوئی تھیں۔ اس بحث سے قطع نظر یہ تھا کہ گاؤں کے مشرقی سرے پر دور دور تک پھیلے مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں وسیع کھیتوں میں گنے، مکئی اور کپاس کی ہری بھری فصلوں، اُن کے اطراف میں وہاں بکھرے کسانوں، ادھر ادھر بندھے اور چَرتے ڈنگروں سے لے کر، چلت پھرت سے بھری راہوں، ان کے کنارے کیکر کی ٹنڈ منڈ جھاڑیوں اور چودھری عطاء محمد کی حویلی کے وسط میں ۱۰۰؍ سالہ بوڑھے ’’برگد‘‘ کی گھنیری شاخوں تک سب اُن کی اذانوں کے اس طرح عادی ہو گئے تھے کہ اگر انھیں منظر سے نکال دیا جائے تو سارے منظر یکبارگی بکھر جائیں۔



مولوی صاحب مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندھیرے میں ٹٹول کر کنڈی گرائی اور لالٹین کو ہاتھ میں اونچا کرتے نماز گاہ میں داخل ہوئے۔ وضو وہ گھر سے کر کے آتے تھے اور ان کا ارادہ ۲؍ رکعت نفل ادا کرنے کا تھا۔ مصلے کی جانب قدم بڑھاتے وہ یکدم ٹھٹھک گئے۔ نماز گاہ کے کونے میں مدھم ٹمٹماتے اجالے کی پرچھائیوں میں اُبھرتی ڈوبتی انسانی شبیہ ان کی نظر کا دھوکا ہرگز نہ تھی۔ ہو سکتا ہے کوئی مسافر ہو مگر رات تک تو یہاں کوئی نہ تھا۔ بڑی مدھم خود کلامی کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر انھوں نے لالٹین کی لو اونچی کی۔ سردی کی شدت اس کے شیشوں سے دھند کے بادل بن کر لپٹ رہی تھی۔

’’السلام علیکم!‘‘ وہ کہتے آگے بڑھے۔
’کون ہو تم؟‘‘ اور ’’بھائی‘‘ کا لفظ ان کے حلق ہی میں گھُٹ کر رہ گیا۔ وہ اسے پہچان گئے تھے۔

وہ بانو تھی۔ چودھری عطاء محمد کی پوتی اور چودھری فتح محمد کے چچیرے بھائی غلام محمد کی نورِ نظر۔ انھیں لگا کہ زمین ہولے ہولے اُن کے قدموں تلے سرک رہی ہے اور ان کی بزرگی اور پارسائی کا وہ بھرم جسے قائم کرنے میں انھوں نے عمرِ گزشتہ کا ہر لمحہ صرف کیا تھا، ایک ہی ہلے میں ٹوٹ جانے کو ہے۔

’’بانو! بیٹی یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ انھوں نے آواز کی لرزش پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’’میں آپ کا انتظار کر رہی تھی مولوی صاحب۔‘‘ لڑکی کی آواز میں اعتماد کا رچاؤ اور بے باکی کی اُٹھان تھی۔

’’مگر کیوں ؟‘‘ اِدھر حیرانی سی حیرانی تھی۔
’’تاکہ آج پَو پھٹنے سے پہلے آپ چودھری فیض محمد سے میرا نکاح پڑھوا دیں۔‘‘
مولوی صاحب نے انگلی سے اپنی خشخشی ڈاڑھی کھجائی اور قدرے توقف کے بعد بولے
’’بانو بیٹی! یہ بات تو تمھارے والدین کے کہنے کی ہے۔‘‘

بانو اپنی جگہ پر ذرا سا کسمسائی اور بولی ’’آپ بھی بڑے بھولے ہیں مولوی صاحب! اگر ایسا ہو پاتا تو میرے رات کے اس پہر خانۂ خدا میں آنے کی نوبت کیوں آتی۔ اماں کسی طور چاچی عظمت کے سامنے چھوٹی نہیں پڑے گی اور ابا کی ناک کو چودھری فتح محمد کی لمبی ناک سے نیچا ہونا گوارا نہیں۔‘‘

’’مگر اس معاملے میں ہمارا کوئی واسطہ کہاں بنتا ہے بانو؟ یہ سب خالص تمھارے گھر کے مسئلے ہیں جنھیں وہیں حل ہونا چاہیے۔ تم یہاں کیوں آئی ہو؟ اور فیض محمد کہاں ہے؟ جس کے لیے تم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے؟‘‘ مولوی صاحب نے ٹٹولتی نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا۔ مبادا کسی کواڑ کے پیچھے یا کسی دیوار کے سائے میں اس کی شبیہ تھرتھرا رہی ہو۔

’’اُسے شہر سے آنا ہے۔ وہ فجر کے وقت پہنچ جائے گا، یہ اُس کا وعدہ ہے۔‘‘ بانو کی آواز میں عین الیقین کی گواہی تھی۔

’’مگر یہ تو سوچو بیٹا!‘‘ مولوی صاحب نے اپنے تئیں لہجے کو نرم بناتے ہوئے کہا۔ ’’ابھی تھوڑی دیر میں نمازی مسجد میں آنا شروع ہو جائیں گے اور وہ تمھیں یہاں دیکھ کر کیا سوچیں گے۔ تمھیں میری اور اپنے باپ کی عزت کا خیال کرنا چاہیے۔‘‘

بانو تن کر کھڑی ہو گئی اور مولوی صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ’’جب انھیں میرا خیال نہیں تو میں اُن کا خیال کیوں کروں۔ فیض محمد کو پہنچ لینے دیں مولوی صاحب! مجھے تو اتنا پتا ہے کہ مجھے اپنے ارادے کے پورا ہونے تک یہیں ٹھہرنا ہے اور میں اپنی ہَٹ کی بہت پکی ہوں۔‘‘

مولوی صاحب نے گھڑی پر نظر دوڑائی۔ تہجد کا وقت نکل رہا تھا۔ اذان میں چند منٹ باقی رہ گئے تھے اور انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اذان ہوتے ہی نمازی اِدھر کو چل پڑیں گے۔ سردی، کُہر اور دھند کی وجہ سے سارے نمازی نہ بھی آتے تو بابا شرفو تیلی، غلام رسول گوجر اور اسلم کمہار نہیں ٹھہرنے کے۔ خاص طور پر بابا شرفو کا اگر بس چلتا تو صبح سے لے کر رات گئے تک مسجد میں گزار دیتا اور ۵؍ کے بجائے ۸؍ نمازیں پڑھتا۔
جوانی اس نے کبڈی کھیلتے اور اِدھر اُدھر منہ ماری کرتے بِتا دی تھی اور اب پکی توبہ کر کے بڑھاپا حلال کر رہا تھا اور غلام رسول گوجر تو تھا ہی پکا نمازی۔ اس نے مسجد میں تب آنا شروع کیا تھا جب اس کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں اور اب اس کے کھُمبیوں جیسے سفید پَٹے پگڑی کے نیچے سے جھانکتے تھے۔


گرمیوں کی چلچلاتی دوپہروں میں جب سورج کا جلتا گولا عین کسانوں کے سروں پر دہکتا، وہ زمین کے سینے کو ہل سے چیرتے پسینے پسینے ہو جاتے اور جب زرد تھال مغرب کی طرف جھکنے لگتا اور انگلی برابر لمبی بیلوں کو ہنکا کر سائے میں لا کھڑا کرتا اور کندھے پر رکھے صافے سے چہرے کا پسینہ پونچھتا مسجد کی طرف چل دیتا۔ اسلم کمہار ان دونوں سے بڑھ کے شیدائی تھا۔
وہ منہ اندھیرے مسجد میں آتا، احاطے میں جھاڑو دیتا، سردیوں میں دَگڑ دَگڑ ہاتھ کا نلکا چلاتا اور جب ٹھنڈا پانی نیم کنکواں ہو جاتا تو لوٹے بھر بھر کر وضو کی جگہ پر رکھتا جاتا۔ گرمیوں میں اندر باہر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کرتا اور محراب کی درزوں میں اگر بتی جلاتا اور جب بابا شرفو خاص لے میں میاں محمد بخش کے کلام کی تان اٹھاتا تو اسلم کمہار ایڑیوں کے بَل یوں گھوم جاتا جیسے چاک پر مٹی کا برتن گھومتا ہے۔



مولوی حسن دین کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی آگیا تو وہ اسے بانو کی موجودگی کی کیا وضاحت دیں گے؟ ’’مجھے پتا ہے مولوی صاحب!‘‘ بانو مصلیٰ پھاند کر دروازے کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ ’’آپ ڈر رہے ہیں۔ آپ میرے وجود سے خوف کھا رہے ہیں۔ میں زمینداروں کی لڑکی ہوں۔ مجھے علم ہے کہ جب پکی پکائی گنوں کی رسیلی فصلوں کو راتوں میں گیدڑ اور لومڑ اُجاڑ جاتے ہیں۔ ان کی جڑوں پہ چوہے سیندھ لگاتے ہیں اور مکئی اور آلوؤں کے تیار کھیتوں میں ’’سیہہ‘‘ پڑجاتی ہے تو زمینداروں کے دل پہ کیا گزرتی ہے۔ فصل تو دوبارہ اُگ آتی ہے۔ کھیت پھر لہلہانے لگتے ہیں لیکن بنی بنائی عزت پہ دن دہاڑے ڈاکا پڑجائے تو دوبارہ نہیں بنتی۔ آپ اپنی عزت سے ڈرتے ہیں مولوی صاحب؟‘‘


’’بانو! تم بڑی سیانی باتیں کرتی ہو۔‘‘ مولوی صاحب نے اُس کے سر پر شفقت سے ہاتھ دھرا۔ ’’پھر اپنی عزت کیوں داؤ پہ لگانے پہ تُلی ہو؟‘‘

’’آپ نہیں سمجھیں گے مولوی صاحب۔ آپ نہیں سمجھیں گے۔‘‘ اس کا انداز اس قدر قطعی تھا کہ مولوی صاحب کو خود پہ جاہلِ مطلق کا گمان ہونے لگا۔ ’’اگر ’’فیض محمد‘‘ سے طے نہ ہوتا تو شاید میں چلی جاتی مگر خیر۔ میں حجرے میں چلتی ہوں آپ بے فکر ہو جایے۔‘‘ وہ غڑاپ سے حجرے میں گم ہو گئی اور دروازہ بھیڑلیا۔

اس روز مولوی حسن دین نے نماز پڑھائی، نماز کے بعد ہلکا پھلکا وعظ بھی کیا اور قرآنِ پاک کا درس لینے والے بچوں کو اگلا سبق بھی پڑھایا۔ دزدیدہ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتے، وہ فیض محمد کی متوقع آمد سے متعلق چوکنا بھی رہے اور حجرے میں مقید بانو کے کسی راز کی طرح افشا ہو جانے کے ضرر سے بے چین بھی۔ حتیٰ کہ ہل ہل کر سبق یاد کرنے والے بچوں کی تیسری قطار میں سلطان خان کی شکایت کرتے اسلم کمہار کے لڑکے خورشید نے جب حجرے سے چھڑی نکال کر لانے کی پیش کش کی تو انھوں نے احمد علی پسر سلطان خان کی شرارت کو بذاتِ خود دیکھنے کے باوجود خورشید کو جھڑک دیا اور احمد علی کو کچھ بھی نہ کہا۔


لڑکوں نے پہلے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر پاروں میں منہ دے کے زور زور سے ہنسنے لگے۔ جب مولوی صاحب پھر بھی چپ رہے تو انھوں نے ایک دوسرے کو چٹکیاں کاٹیں اور آنکھ بچا کر ایک آدھ کو دھول دھپا بھی کیا۔ چاشت کے قریب بچے آگے پیچھے مسجد سے نکلے تو بانو باہر آئی۔

’’فیض محمد نہیں آیا مولوی صاحب؟‘‘ اس کی آواز میں خدشے اور خوف یک رُخ لرز رہے تھے۔ انھوں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ چپ رہ گئی۔پھر مٹی کو پاؤں کے انگوٹھے سے کریدتے ہوئے کچھ بڑبڑائی پھر سیدھی چلتی باہر کو دروازہ پار کر گئی۔ مولوی حسن دین نے سینے میں دبی گہری سانس خارج کی اور عمر دین کا انتظار کرنے لگے جو اس وقت بخاری شریف کا درس لینے آتا تھا۔

عمر دین مولوی صاحب کا بڑا بیبا بچہ تھا۔ اس نے پانچ کوس پر قصباتی سکول سے میٹرک پاس کیا تو چودھریوں کے لڑکے فیض محمد کے ساتھ لاہور جانے کے پروگرام بنانے لگا۔ فیض محمد اس کا لنگوٹیا یار تھا۔ دونوں نے اپنے بچپن کا زمانہ اکٹھے گاؤں کی چھوٹی نہر میں چھلانگیں لگاتے، چودھریوں کی لمبی چوڑی اراضی کے گنے چوستے، آگ کے الاؤ پہ کچے پکے گڑ کی باس سونگھتے اور گرمیوں کی شامیں کبڈی کے داؤ ایک دوسرے پہ آزماتے گزاری تھیں اور مولوی حسن دین اچھی طرح جانتے تھے کہ چھوٹے چودھری کا میراثیوں، موچیوں اور کمہاروں اور کم رقبے والے کسانوں کے لڑکوں کے ساتھ کھیل کود کرنا اور بات ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اُن کے پہلو بہ پہلو علمی مدارج طے کرنا دوسری بات ہے۔


سال میں ایک بار گندم اور ایک بار مونجی کی فصل اکٹھی کر کے انھوں نے ایساکوئی تیر نہ مار لیا تھا کہ بیٹے کی تعلیم اور رہائش کے اخراجات پورے کر سکتے۔ دوسرے اُن کا ارادہ اُسے اپنے سالے کے پاس دیوبند بھیجنے کا تھا جو حدیث کا عالم بن رہا تھا اور اس نے مولوی حسن دین سے وعدہ کر رکھا تھا کہ مناسب موقع ملتے ہی وہ بھانجے کو بُلوا بھیجے گا۔


عمر دین سمجھدار بچہ تھا۔ باپ کے کہنے پہ اس نے اپنی ضد واپس لے لی اور لاہور جانے کے بجائے مسجد میں باپ سے بخاری شریف کا درس لینے لگا۔ ان دنوں مولوی صاحب کو اندازہ ہوا کہ ان کا بیٹا کچھ مختلف سوچنے لگا ہے۔ اس کی نگاہوں میں باپ کا احترام جھلکتا ہے۔ وہ ان کی بزرگی اور شرافت کا مداح ہے اور ان کی علمی فضیلت کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ مگر وہ ان جیسا نہیں بننا چاہتا۔

’’پُتر!امامت نبیوں اور ولیوں کا منصب رہا ہے۔‘‘ مولوی صاحب اسے سمجھاتے۔
’’لیکن ابا جی! آپ نے اسے پیشہ بنا دیا ہے۔‘‘
’’چلو پیشہ ہی سہی، پر باقی پیشوں سے بھلا ہے کہ نہیں ؟ دیکھو یہ وہ عمل ہے جسے اللہ کے نبیؐ نے ساری حیاتی خود انجام دیا اور مرنے سے پہلے اپنے خلیفہ کو اس پہ مامور کر گئے اور خلیفہ نے اپنے سے اگلے خلیفہ کو اور اگلے نے اپنے سے اگلے خلیفہ کو۔‘‘

’’اباجی!‘‘ عمر دین کچھ دیر سوچ کر بولا۔ ’’اگر ایسا ہے تو پھر تو گاؤں میں نماز پڑھانے کی ذمے داری چودھری فتح محمد کو اُٹھانی چاہیے اور ضلع کی مسجد میں ضلعی کمشنر کو اور صوبائی دارالحکومت میں گورنر صاحب کو اور…‘‘ عمر دین کی فہرست لمبی ہو گئی اور مولوی صاحب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ذرا دیر کے بعد بولے تو ان کی آواز میں عجیب یاسیت کا رنگ گھلا ہوا تھا ’’کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو پُتر! پر مدت گزری منصب داروں نے منصب کا حق سمجھنا اور اسے ادا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ حکومت کو ہوس اور لوبھ کے بندوں نے بانٹ لیا اور دین پیشہ بننے کے لیے چھوڑ دیا۔‘‘


’’تو ٹھیک ہے میں بھی آپ کی میراث ضرور سنبھالوں گا مگر تب، جب منصب پہ حق دار فائز ہونے لگیں گے جو اس کے اہل ہوں گے اور اس ذمے داری کو نبھانا جانتے ہوں گے اور ہو سکتا ہے اباجی! تب میں بھی کسی علاقے کا چھوٹا موٹا کمشنر ہو جاؤں۔‘‘ اس کے لہجے کی شرارت جان کر مولوی صاحب لاحول پڑھ کر رہ گئے اور انھوں نے دِل میں پکا ارادہ کر لیا کہ وہ اُسے جل داز جلد دیوبند بھجوا دیں گے۔


مولوی صاحب مسجد سے اٹھے تو چودھری فتح محمد کی حویلی کی راہ لی۔ وہ بانو اور فیض محمد کے معاملے کو جلداز جلد ان کے گوش گزار کر کے اپنی پتلی گردن کو کسی متوقع پھندے سے بچا لینا چاہتے تھے۔ چودھری صاحب حویلی کے احاطے میں اپنے مخصوص رنگین پایوں والے نواڑی پلنگ پہ نیم دراز تھے۔ ان کے بھاری پگڑ کا طرّہ بانگ دیتے مرغے کی کلغی کی طرح سیدھے رُخ میں یوں اٹھا ہوا تھا جیسے ابھی نیچے سے آواز آئے گی ککڑوں کوں۔ پلنگ کے طول و عرض پہ پھیلے چودھری صاحب کے تن و توش کو رمضان مصلّی اور جہان مراثی نے بیک وقت خاصی مہارت سے قابو کر رکھا تھا اور بڑی مہارت سے اُسے دبا رہے تھے۔


’’آؤ جی! مولوی صاحب! جی آیاں نوں۔‘‘ انھوں نے مولوی صاحب کے سلام کا جواب دے کر مونڈھے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور مراثی کے ہاتھوں ٹانگ چھڑاتے ہوئے بولے ’’جا جہان! حقہ تازہ کر کے لا اپنے مولوی صاحب آئے ہیں۔‘‘

’’مہربانی چودھری صاحب! اس کی ضرورت نہیں ہے میں تو اس وقت آپ سے چند خاص باتیں کرنے آیا ہوں۔‘‘ مولوی صاحب نے تمہید باندھی اور چودھری کا اشارہ پا کر دونوں کامے وہاں سے کھسک لیے۔ مولوی صاحب صبح کا قصہ مختصراً بیان کرتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’چودھری صاحب! چھوٹا منہ بڑی بات، بانو آپ کی بھتیجی ہے اور فیض محمد سگی اولاد۔ بہتر ہوتا تو آپ بھائی آپس میں بیٹھ کر معاملہ طے کر لیتے اور بچے خاندان کی عزت کو نہ رولتے۔‘‘

بات یہ ہے مولوی جی!‘‘ چودھری فتح محمد نے تہبند سمیٹا اور تھوڑی دیر اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے کے بعد پلنگ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھنے میں کامیاب ہو گئے۔ ’’غلام محمد مجھ سے کئی حصے چھوٹا ہے، عمر میں بھی مرتبے میں بھی۔ اُسے ’’نمبرداری‘‘ کے منصب پہ پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا۔ مگر وہ ایک ہی جَست میں اُسے جا لینا چاہتا ہے۔ چودھری ابھی وہ اتنا سا ہی ہے کہ اگر مٹھی چانپی کرتے کسی کامے کو ٹانگ مار کے پرے گِرا دے تو وہ اِدھر اُدھر ہو جانے کے بجائے ہاتھ جوڑتا، ناک رگڑتا دوبارہ اس کی جی حضوری کے لیے آ پہنچتا ہے۔

پُرکھوں کی زمینیں کس طرح بڑھاتے ہیں اور اپنے مربعے کس طرح چھوٹے زمینداروں کے رقبوں تک پھیلاتے ہیں یہ وہ ابھی نہیں جانتا۔‘‘

یہاں تک پہنچ کر چودھری صاحب ہانپنے لگے۔ انھوں نے اوپر کا زانو نیچے اور نیچے کا زانو اوپر رکھتے اور سانس بحال کرتے ہوئے بولے۔’’اس کی بیوی بانو کا رشتہ اپنے بھائی کو دینا چاہتی ہے مگر ہم جیتے جی باپ دادا کے مربعوں پہ غیروں کے ہل چلنے نہیں دیں گے۔ فکر کی کوئی بات اس لیے نہیں کہ بانو ہمارے ساتھ ہے۔ فیض محمد کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔ اس کی طرف سے وہ کچھ بد ظن تھی مگر اب مطمئن ہے۔ مولوی صاحب! وہ مسجد سے سیدھی میری طرف آئی ہے۔ پہلے آ جاتی تو اچھا تھا۔ مگر خیر… اور اب وہ میری پناہ میں ہے۔‘‘


’’بات یہ ہے چودھری صاحب!‘‘ مولوی حسن دین نے خشک ہوتے حلق کو تھوک سے تر کرتے ہوئے کہا ’’آپ دونوں صاحبان ایک دادا کی اولاد ہیں اور میرے لیے دونوں قابلِ قدر ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کم از کم مجھے ایسی کسی آزمایش میں نہ ڈالیں جسے آپ میں سے کوئی اپنے لیے ذلت جانے۔‘‘

’’اچھا اچھا تو آپ اس لیے آئے ہیں۔‘‘ چودھری صاحب کا فلک شگاف قہقہہ اُن کے گُل مچھوں سے ٹکرا کر کھڑکھڑایا اور اُن کا بڑے قطر والا پیٹ دیر تک تَھل تَھل کرتا رہا۔ بڑی دیر بعد جب یہ طوفان تھما تو چودھری کی ہانپتی آواز مولوی صاحب کی سماعت سے ٹکرائی۔ ’’آپ بے فکر ہو جائیے مولوی صاحب! فیض محمد نے اس کا انتظام کر لیا ہے۔ آپ گھر جا کر اللہ اللہ کریں۔‘‘ مولوی صاحب اٹھے تو جہان اور رمضان یوں چودھری کے وجود پر لپکے جیسے گِدھ تازہ لاش پر جھپٹتی ہے۔

مولوی حسن دین کی فکر اس وقت دوچند ہو گئی جب ظہر کی نماز پڑھا کر وہ گھر آئے۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عمر دین صحن میں داخل ہوا۔ اس وقت اس کا چہرہ معمول سے زیادہ بشاش تھا اور اس پہ انوکھا سا جوش لہریں مارتا دکھائی دیتا تھا۔

’’اباجی!‘‘ وہ ان کے قریب چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا ’’میں آج ایک ایسا کام کر آیا ہوں جسے جان کر آپ شاید ناراض ہوں گے۔ مگر میں نے صرف یار سے یاری نبھائی ہے۔ آپ چاہتے تھے ناں کہ میں آپ کی مسند سنبھال لوں تو میں امام مسجد بن کر فیض محمد کا بانو سے نکاح پڑھا آیا ہوں۔‘‘

یہ سن کر مولوی صاحب کا لقمہ حلق میں پھنس گیا۔ انھوں نے پانی کا پورا گلاس خلافِ معمول ایک ہی سانس میں چڑھایا اور بغیر کھائے برتن آگے بڑھا کر بولے۔ ’’یہ تم نے کیا کر دیا عمر دین۔ اب ہم غلام محمد کے قہر سے کیسے بچ پائیں گے۔ کیا تم جانتے نہ تھے کہ امام مسجد سارے گاؤں کا سانجھا ہوتا ہے۔ ‘‘

’’جیسے موچی، مراثی، ماچھی اور جولاہے سب کے سانجھے ہیں ؟ ہے ناں ابا جی؟‘‘ عمر دین کے لہجے میں جو طنز کی کاٹ تھی وہ مولوی صاحب سے پوشیدہ نہ رہی تھی۔ مگر اس وقت وہ ایسے کسی بحث مباحثے کے حق میں نہیں تھے۔ انھیں صرف عمر دین کی حماقت پر افسوس ہو رہا تھا۔
’’اباجی!‘‘ عمر دین دوبارہ بولا تو اس کی آواز میں اطمینان چمک رہا تھا۔ ’’آپ فکر کیوں کرتے ہیں ؟ چودھری فتح محمد کا ہاتھ ہمارے اوپر ہے۔ وہ خود بانو کے ولی بن کر آئے تھے۔ پھر آپ کو معلوم توہے فیض محمد میرا دوست ہے۔ میں اس کا کہا کیسے ٹال سکتا تھا؟‘‘

’’اب تم اللہ سے صرف خیر مانگو۔‘‘ مولوی صاحب نے کہا اور اُٹھ کر کمرے میں چلے گئے۔ عمر دین کو لگا ان کے قدموں میں صدیوں کی تھکن دوڑ گئی ہے۔

نکاح کی اطلاع آناً فاناً یہاں سے وہاں ہوتی پورے گاؤں میں پھیل گئی اور اندھیرا پھیلنے سے پہلے پہلے دونوں اطراف کے مسلح دستے میدان میں اُتر آئے۔ گنے اور مکئی کے کھیتوں کی اوٹ میں مورچہ بندی ہوئی۔ بازو چڑھا لیے گئے۔ انتقام کی قسمیں کھاتے اور بڑھکیں مار مار کر منہ سے کَف اُڑاتے گئے اور کچی ادھ پکی فصلوں کے آر پار بارہ بور کی بندوقیں اور آہنی رائفلیں شعلے اگلنے لگیں۔ اِدھر سے ایک گولی چلی تو اُدھر سے جواب میں چار آئیں۔ کوئی ایک فریق بھی پیچھے ہٹنے یا کمزور پڑنے کو تیار نہ تھا۔

جانثاروں کی سپاہ تازہ کمک کے ساتھ موقع پر پہنچتی رہی اور رات گئے جب کچھ ٹھہراؤ آیا تو معلوم ہوا کہ چودھری فتح محمد کی طرف سے ’’خان مصلّی اور چودھری غلام محمد کی طرف سے مصلیوں کے ہی کڑیل ج