ہماری مذ ہبی تعلیمات میں اکثر والدین کی خدمت پر بہت زور دیا جاتا ہے جو کے ایک ٹھیک بات ہے لیکن عام بزرگوں کے لیے ریاست کی طرف سے خیال رکھنے کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے اور زیادہ سے زیادہ لڑکوں کی خواہش والدین میں پایِ جاتی ہے ۔ چاہے ہربچے کا انفرادی مستقبل خراب ہو لیکن والدین کی کچھ نہ کچھ خدمت تو کر ہی دے گا ۔ کیوں نہیں خلافت کے دورمیں بوڑھے لوگوں کیلیےکفالت کا انتظام کیا گیا ۔ کیا ہم اس پر تنقید کرسکتے ہیں ؟جی نہیں، اسلیے کے اس وقت ریاست کے پاس وسائل ہی نہیں تھے ۔ حالانکہ

اوسط عمر کم ہونے کی وجہ سےمعاشرے میں بوڑھوں کی تعداد بھی بہت کم تھی ۔ ریاستتو جیل تک نہیں بنا سکتی تھی ، اسی لیے تو فوری سزاوں پر زور دیا

کوئی پرا نا سماج یا مذ ہبی معاشرہبوڑھے لوگوں کے لیےوہ نہیں کرسکا جو آہستہ آہستہ ترقی یا فتہ سماج نے کیا ہے ۔ کینیڈا میں ہر فرد کو ۶۵سال کی عمر کے بعد پینشن ملتی ہے ۔ میڈیکل تو مفت ہے ہی لیکن بوڑھوں کے لیے دوا بھی تقریبا مفت ہوتی ہے ۔ بس کا کرایہ یا سینیماکا ٹکٹ آدھا ہوجاتا ہے ۔ایک ۹۱۱کی فون کال پر پولس ، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ منٹوں میں موجود ہوتی ہے ۔

سب سے بڑی بات ، ہمارے معاشرے کے بر خلاف یہا ں بوڑھے ہر طرح کا فیشن کرسکتے ہیں ، آخر تک جتنا ممکن ہو زندگی سےمزہ لیتے ہیں ۔ اگر میا ں یا بیوی گزر جاے تو بہت عمر میں بھی شادی معیوب نہیں سمجھی جاتی ۔ یہاں بوڑھے کو یہ سنے کو نہیں ملتا ، اسکی عمر دیکھو اور اسکے کام دیکھو ۔

ہمارا معاشرہ عا م بوڑھے کے لیے تو کچھ بھی نہیں کرتا ، گھر میں خدمت کا مطلب بیوی اپنے والدین کے بجاے شوہر کے والدین کی خدمت کرے ۔

البتہ ایک حق ایسا ہے جو ہمارامعاشرہ والدین کو دیتا ہے جو ترقی یافتہ سماج نہیں دیتا ۔ چونکہ وہاں ہر فرد کی آزادیپر زور دیا جاتا ہے اسلیے بوڑھے لوگ جوانوں کی زندگی کےا ہم فیصلے نہیں کرتے ، ہمارے ہاں کرتے ہیں ۔ زندگی بہت تیزی سے بد لتی ہے جب کوی اپنے چالیس سال پرانے تجربے

کی بنیاد پر بیٹے کی ملازمت ، شادی یا نواسی کی تعلیم کے فیصلے کرے گا تووہ وقت کی ضرورت سے مطابقت نہیں رکھتے اور وہی ہوگاجو ہمارے ہاں ہو رہا ہے ۔