پرویز رشید نے اپنی حکومت کی نالائقی خود ہی بتادی۔ عمران خان کی جائیداد اورزمینوں کی فوٹیج دکھاتے ہوئے اس نے دعویٰ کیا تھا کہ جن علاقوں میں

عمران خان کی زمینیں ہیں عمران خان نے اس علاقے میں نہ تو سکول، کالج، ہسپتال ، ڈسپنسری بنائی ہیں اور نہ ہی وہاں کوئی ڈویلپمنٹ کی ہے۔ پرویز رشید سے یہ سوال تو کرنا چاہئے کہ کیا سکول، کالج، ہسپتال بنانا عمران خان کا کام ہے یا حکومت کا کام ہے؟
پرویز رشید نے دراصل اپنی حکومت اور جماعت کی نالائقی خود ہی بتادی ہے۔

نوازشریف 1985 میں پہلی بار وزیراعلیٰ پنجاب بنے

نوازشریف 1988 میں دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے

نوازشریف 1990 میں وزیراعظم بنے تو پنجاب میں حکومت بھی ن لیگ کی بنی اور غلام حیدروائیں وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور ان کا تعلق اسی علاقے سے

ہے جس علاقے میں عمران خان کی زمینیں ہیں۔

پھر 1997 میں نوازشریف دوبارہ وزیراعظم بنے تو پنجاب میں شہبازشریف وزیراعلیٰ بنے۔

پھر 2008 میں شہبازشریف دوسری باری وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور پانچ سال حکومت کی۔

اور اب 2013 میں نوازشریف تیسری بار وزیراعظم پاکستان بنے تو شہباز شریف تیسری بار وزیراعلیٰ پنجاب بنے ہیں۔

لیکن پھر بھی الزام عمران خان پر کہ اس نے کوئی کام نہیں کروایا۔پرویز رشید عمران خان سے حساب بعد میں مانگیں پہلے چھ بار پنجاب میں اور تین بار

وفاق میں حکومت کا حساب تو دیں